Basic Ethics of Humanity

انسانیت کے بنیادی اخلاق 

انسان کو اس دنیا پر ہے کتنی ہی صدیاں ہو گئیں اور اسے ارتقاء کی موجودہ منزل تک پہنچنے میں کیا مراحل طے کرنے پڑے ۔ اس طویل مدت میں انسانوں نے کئی تمدن بنانے بڑے بڑے فلسفوں کی بنیاد رکھی، بے شمار علوم و جود میں آئے۔ اخلاق و عادات کے نت نئے معیار بنے، انبیاء مبعوث ہوئے اور ان کی زبان سے خدا تعالی کے پیغامات ان کے بندوں کو ملے، فلسفیوں اور حکیموں نے نئی نئی باتیں سوچیں۔ الغرض اب تک اتنے تمدنی، اخلاق فلسفی اور دینی نظرے معرض وجود میں آ چکے ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے، ہر دور ایک نیا فکر لے کر آیا، ہر قوم نے یہ دعوی کیا کہ جو تمدن ان کا ہے ویسا تمدن نہ کسی کا پہلے تھا اور نہ آئندہ کسی کا ہوگا (اور میرے سوا کوئی نہیں) کی صدائیں ہمیں ہر قوم کی تاریخ کے دور اقبال میں سنے میں آتی ہیں۔

 بہرحال اس سے انکار نہیں کہ ہر قوم کی انفرادیت اپنی جگہ مسلم ہے اور ہر فکر نے اپنے اپنے زمانے میں اپنے لئے نی فضاء بنائی ۔ لیکن جس طرح انسان تمام وقت، مکانی،عارضی اور ظاہری اختلافات کے باوجود اصل میں سب ایک ہیں (خواہ کوئی آج سے دس ہزار سال پہلے کا غیر متمدن انسان ہو یا اس زمانے میں وسط افریقہ کے جنگلوں میں بہنے والا حبشی یا آج کا ترقی یافتہ یورپین، جس طرح ان سب میں انسانیت کا ایک جامع نقطه مشترک ہے اور گو لاکھوں برس کے ارتقاء نے ان کو کچھ سے کچھ بنادیا ہے، لیکن جہاں تک اصل انسانیت کا تعلق ہے وہ اس میں اب بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں اور ان میں بنیادی طور پر کوئی فرق نظر نہیں آتا بعینہ اس طرح ان گونا گوں اخلاقی نظریوں تمدنی اصولوں اور افکار وادیان میں بھی ایک کونا وحدت ہے، گو ارتقاء نے ان کو عجیب عجیب شکلیں دیں اور انہیں کہیں سے کہیں پہنچادیا ،لیکن اس کے باو جودان تمام کے درمیان چند بنیادی باتیں ایسی ہیں جو سب میں مشترک نظر آئیں گی ۔ ظاہر بینوں (دیکھنے والوں) پر

Post a Comment

To Top